دنیا

بلیک لائیوز میٹر: امریکہ میں یہ خاتون کیرن کون ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر مہم کے سلسلے میں مظاہروں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس سلسلے میں ان مظاہروں کی مختلف ویڈیوز متعدد وجوہات کی وجہ سے وائرل ہو رہی ہیں۔

تاہم کچھ عرصے سے کچھ ایسے واقعات کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن رہی ہیں جن میں کچھ لوگ نسل پرستانہ رویہ اختیار کیے نظر آتے ہیں اور کسی سیاہ فام یہ کسی دوسری رنگ و نسل کے شخص کو اُس کی رنگت کی وجہ سے نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نام ‘کیرن’ کا ذکر اکثر سننے کو ملتا ہے۔

اس تناظر میں کیرن کسی مخصوص خاتون کا نام نہیں۔ دراصل یہ نام نسل پرستانہ خیالات رکھنے والے سفید فام ادھیڑ عمر خواتین کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں سفید فام نسل پرستی فروغ پا رہی ہے؟

سیاہ و سفید فام کی خلیج اور صدارتی انتخاب

ڈکشنری میں نسل پرستی کی تعریف بھی بدل گئی

روس، چین، ایران اور ترکی کس طرح امریکہ سے پرانے بدلے چکا رہے ہیں؟

پچھلے کچھ عرصے میں اسی متعدد ویڈیوز منظر عام پر آئیں ہیں جن میں سفید فام خواتین نے نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کیا اور کسی کو اُس کی رنگت کی وجہ سے نشانہ بنایا۔ ایسی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین ان خواتین کو کیرن کا لقب دیتے ہیں جو اب اس مخصوص سوچ کے لیے ایک اصطلاح بن گئی ہے۔

اسی سلسلے کی ایک تازہ ویڈیو میں ایک خاتون اپنے گھر کے باہر سے گزرنے والے بلیک لائیوز میٹر مہم کے مظاہرین پر پستول تانے نظر آئیں۔ ساتھ ان کے گھر کا ایک مرد بھی آٹومیٹک رائیفل تھامے کھڑا ہے اور دونوں مظاہرین کے ساتھ تلخ کلامی کر رہے ہیں۔

میکس کائیزر نے یہ ویڈیو شیئر کی جسے تقریباً 90 لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں اور ساتھ لکھا ’کیرن‘ کے پاس پستول ہے۔

ریچل مکگونگل نے بھی یہ ویڈیو شیئر کی اور ساتھ اپنے پیغام میں انہیں کیرن آف دی یئیر کے لیے نامزد کیا۔

ایک اور صارف ڈان کالووے نے اس خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے اس میں نظر آنے والے مرد کا نام لیا اور کہا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں اور اس کا نام مارک مککلوسکی ہے اور انہوں نے بندوق تان کر امن پسند مظاہرین پر چڑھائی کی ہے۔ انہیں فوراً گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کرنا چاہیے اور بار کو ان کا لائسنس منسوخ کردینے چاہیے۔

اسی طرح کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اُن خاتون کی شناخت ظاہر کی تاکہ ان سے منسلک افراد اور کمپنیوں کو احساس وہ کہ وہ کس قسم کے خیالات رکھتی ہیں۔

امریکہ اور پاکستان میں کیرن نام ٹرینڈ کر رہا ہے اور لوگ اس بارے میں ایک بار پھر بات کرنے لگے ہیں۔

ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کے بعد ایسے افراد کو پہچاننے والے لوگوں نے اُن کی شناخت سوشل میڈیا پر ظاہر کی۔ ان افراد کے نسل پرستانہ خیالات کے اظہار اور رنگ کی بنیاد پر کسی کو نشانے بنانے کے بعد ایسے افراد کو نوکریوں سے بھی نکالا گیا۔

حال ہی میں ایک اور خاتون نے اس طرح کا رویہ دکھایا۔

اس ویڈیو میں یہ خاتون اپنے پڑوسی کو اُن کی رنگ و نسل کی وجہ سے نشانہ بناتے ہوئے اُن پر شور مچا رہی ہیں اور انہیں اس مہم کے بارے میں اپنے گھر کے باہر چاک سے نعرے لکھنے سے منع کر رہی ہیں اور یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ وہاں رہتے ہی نہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اس خاتون کی شناخت ظاہر کی گئی اور نتیجتاً لوگوں نے اُن کے رویہ کی وجہ سے اُن کے کاروبار کا بائیکاٹ کیا اور ان کے پارٹنر کو اس واقعے میں اپنے کردار پر نوکری سے نکالا گیا۔

نیویارک میں اسی طرح کے ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک عورت نے پارک میں موجود ایک اور شخص کی رنگ و نسل کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا اور اُن کے خلاف پولیس کو کال کی۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بھی نتیجتاً اس خاتون کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

ان کے علاوہ ایسی بے شمار خواتین کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کرتی رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر ان خواتین کو کیرن کا لقب دیا جاتا ہے۔

ایک اور ٹوئٹر صارف نے ایسے ٹرینڈ میں شامل ہوتے ہوئے ایک اور واقعے کی ویڈیو کو ری ٹویٹ کیا اور ساتھ لکھا کہ کیرن ایک بیماری ہے۔

اس سلسلے میں ایک ایکٹیوسٹ نے ٹوئٹر ہینڈل بھی بنایا ہے جو ایسی خواتین کے رویے کی ویڈیوز شیئر کرتا ہے۔ اس اصطلاح کے تناظر میں اس ہینڈل کا نام یونائیٹڈ کرینز آف امریکہ ہے۔


World News by Editor

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close