دنیا

’دولت اسلامیہ کو فنڈ کرنے‘ کے لیے سمگل کی جانے والی 14 ٹن کی دوا ’کیپٹاگون‘ اٹلی میں پکڑی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

اتنی مقدار میں دوا کا پکڑا جانا اپنے آپ میں عالمی ریکارڈ ہے

اٹلی کی پولیس نے ایمفیٹا مائن نامی دوا کی 14 ٹن گولیاں پکڑی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انھیں دولتِ اسلامیہ کی مالی مدد کے لیے شام میں تیار کیا گیا تھا۔ پولیس کے خیال میں دوا کا اتنا بڑا ذخیرہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

کیپٹاگون کی اِن آٹھ کروڑ 40 لاکھ گولیوں کی مالیت کا تخمینہ ایک ارب یورو لگایا گیا ہے۔ یہ ذخیرہ اٹلی کی بندرگاہ سالرنو میں پکڑا گیا۔

ان گولیوں کو پیپر اور گاڑیوں کے گیئر میں استعمال ہونے والی گراریوں کے بڑے بڑے ڈرموں میں چھپایا گیا تھا۔

اٹلی کی پولیس اس واقعے میں مقامی جرائم پیشہ گروہوں کے ملوث ہونے کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جہادی گولیاں انڈیا سے آئی تھیں‘

اطالوی مافیا کے سرغنہ کی وہ غلطیاں جن سے وہ پکڑے گئے

کیپٹاگون نامی یہ دوا دماغ کو متحرک کر دینے والی ایک دوا فینیتھائلین کا برانڈ نام ہے۔ ابتدا میں اس دوا کو ایسے مریضوں کو دیا جاتا تھا جو کسی چیز پر توجہ مبذول کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایک جگہ ٹک کر بیٹھ نہیں سکتے۔

اس بیماری کو اٹینشن ڈیفیسٹ ڈس آرڈر یا اے ڈی ایچ ڈی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا نارکولیپسی نامی بیماری میں بھی دی جاتی تھی۔

لیکن بعد میں کئی ممالک نے اِس پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ لوگ نشے کی طرح اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔

کیپٹاگون کی جعلی اقسام کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں امیر نوجوانوں میں بہت مقبول ہے خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں اس کی زیادہ مانگ ہے۔

یہ دوا دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سمیت شام میں لڑنے والے دیگر جنگجو بھی استعمال کرتے رہے ہیں کیونکہ یہ خوف دور کرنے میں مدد دیتی ہے اور تھکن دور کرتی ہے۔

شام کے بارے میں خیال ہے کہ وہاں دنیا میں سب سے زیادہ جعلی کیپٹاگون تیار کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

دولت اسلامیہ کو شام کے زیادہ تر علاقوں میں شکست ہو چکی ہے لیکن اب بھی اس کے ہزاروں جنگجو شام میں موجود ہیں

اٹلی کے علاقے نیپلس کی پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ عرصے پہلے تک شام کے بڑے علاقوں پر قابض شدت پسند گروپ نام نہاد دولتِ اسلامیہ پر شبہ ہے کہ وہ اپنے مالی وسائل میں اضافے کے لیے اس دوا کو بڑے پیمانے پر تیار کر رہی ہے۔

دولت اسلامیہ کو شام کے زیادہ تر علاقوں میں شکست ہو چکی ہے لیکن اب بھی اس کے ہزاروں جنگجو شام میں موجود ہیں۔

اٹلی کے پورٹ آف سیلرنو میں پکڑی جانے والی گولیوں کی اتنی بڑی تعداد یورپ کی پوری مارکیٹ کے لیے کافی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ جرائم پیشہ گروہوں کا ایک بڑا کنسورشیم موجود ہے جو دوا کے اِس ذخیرے کو پورے یورپ میں تقسیم کر سکتا تھا۔

پولیس کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے یورپ میں ایسی سینتھیٹک ادویات کی پیداوار رک گئی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے حصول کے لیے کئی سمگلروں نے شام کا رخ کیا ہے، جہاں اس دوا کو اب بھی بنایا جا رہا ہے۔


World News by Editor

Show More

Related Articles

Back to top button
Close
Close