دنیا

متحدہ عرب امارات میں عرب دنیا کے پہلے جوہری پلانٹ نے جزوی طور پر کام شروع کر دیا

،تصویر کا کیپشن

باراکاہ کا آغاز ابتدائی طور پر سنہ 2017 میں ہونا تھا

متحدہ عرب امارات نے عرب دنیا کے پہلے جوہری پلانٹ کے ابتدائی آپریشنز شروع کر دیئے ہیں۔

قطر کے مشرق میں گلف کوسٹ پر واقع اس نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چار یونٹس میں ایک کو فعال بنا لیا ہے۔

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ براکہ کے چار میں سے ایک ریکٹر میں نیو کلیئر کی افزودگی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس پلانٹ پر کام سنہ 2017 میں شروع ہونا تھا مگر حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر یہ کام متعدد بار التوا کا شکار ہوا۔

متحدہ عرب امارات اس پلانٹ سے اپنی توانائی کی ایک چوتھائی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔ عرب ملک پائیدار توانائی کے ذرائع کو استعمال میں لا رہا ہے۔

دو ہفتے قبل متحدہ عرب امارات نے مریخ پر بھی اپنا تحقیقاتی مشن بھیجا ہے۔ یہ سائنسی پیش رفت بھی عرب ممالک میں سے متحدہ عرب امارات کے نام آئی ہے۔

متحدہ عرب امارات شمسی توانائی پر بھاری رقم خرچ کر رہا ہے ،جو گلف میں توانائی کا بڑا ذریعہ ہے۔ توانائی کے شعبے کے کچھ ماہرین پلانٹ کے نام پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اس پلانٹ کے نام کا عربی میں مطلب خوشی کے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شمسی توانائی زیادہ شفاف، زیادہ سستی اور ایک ایسے خطے میں جہاں سیاسی تنازعات اور دہشتگردی جیسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں سے مطابقت بھی رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ برس قطر نے اس براکہ پلانٹ کو خطے کے امن اور ماحولیات کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ قطر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا سخت مخالف ہے۔

گلف کی دوسری طرف ایران واقع ہے جو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے متعدد امریکی پابندیوں کا شکار ہے اور ایران بھی متحدہ عرب امارات کا حریف ملک ہے۔

انٹرنیشنل نیوکلیئر کنسلٹنگ گروپ کے سربراہ ڈاکٹر پال ڈارفمین نے اس بارے میں لکھا ہے کہ خطے میں تناؤ کے ماحول میں یہ جوہری پلانٹ دنیا کے کسی بھی خطے سے یہاں اس کو مزید متنازع بنا دیتا ہے کیونکہ جوہری توانائی یہ صلاحیت پیدا کرتی ہے کہ پھر اس سے جوہری ہتھیار بنائے جائیں۔

اپنے تجزیے میں ان کا کہنا تھا کہ لندن میں مقیم سائنسدانوں نے تکنیکی بنیادوں پر اس جوہری پلانٹ کے حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان سائنسدانوں کے مطابق اس پلانٹ سے گلف میں تابکاری آلودگی پھیلنے کا خطرہ ہے۔

اہم پیش رفت

متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے سنیچر کو اس پلانٹ پر کام کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کی سائنسی ترقی کی ایک اہم علامت ہے۔

اس جوہری پلانٹ کی تعمیر مشترکہ طور پر ایمریٹس انرجی کوآپریشن (ای این ای سی) اور کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن (کے ای پی سی او) نے کی ہے۔ اس پلانٹ سے 1،400 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ یہ ریکٹر جنوبی کوریا میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے اے پی آر-1400 کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) جو جوہری ممالک کے پروگرام کی نگرانی کرتی ہے نے اپنے ایک ٹویٹ میں متحدہ عرب امارات کے جوہری پلانٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پلانٹ کے یونٹ ون نے اپنی پہلی صلاحیت حاصل کر لی ہے جو کہ محدود افزودگی سے متعلق ہے۔

آئی اے ای اے نے کہا کہ یہ تجارتی سرگرمیوں اور شفاف توانائی پیدا کرنے کی جانب بہت اہم پیش رفت ہے۔ آئی اے ای اے شروع سے ہی متحدہ عرب امارات کے اس جوہری پروگرام کو سراہتا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے رہنما شہزادہ محمد بن زید النہان نے ٹویٹ کرتے ہوئے قوم کو مبارکباد دی ہے۔ ان کے مطابق اس کامیابی سے اب پائیدار توانائی کا حصول ممکن ہو سگے گا۔


World News by Editor

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close