دنیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا ماؤنٹ رشمور پر خطاب: امریکی صدر نے ’کینسل کلچر‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے دوران جمعہ کا اجتماع صدر ٹرمپ کا تازہ ترین اجتماع تھا جس کے ذریعے وہ نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اپنے حامیوں میں جوش بھرنے کی کوشش کر رہے تھے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار جولائی یعنی امریکہ کی آزادی کی یاد میں ماؤنٹ رشمور میں اپنے خطاب میں نسل پرستی کے حالیہ مظاہروں کے دوران یادگاروں کو گرانے والے لوگوں کے ’کینسل کلچر‘ کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی ڈکوٹا کی یادگار عمارت ’ہمارے آبا و اجداد اور ہماری آزادی کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کھڑی ہو گی۔‘

انھوں نے ایک پرجوش مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کو کہا کہ ’اس یادگار کی کبھی بے حرمتی نہیں ہو گی اور نہ ان ہیروز کی شکل کبھی بگاڑی جا سکتی ہے۔‘

ماؤنٹ رشمور میں چار امریکی صدور کے منقش چہرے نمایاں ہیں۔

سرگرم کارکنوں نے طویل عرصے سے اس قومی یادگار کا معاملہ اٹھایا ہوا ہے جسے مقامی امریکی قبائل کے گروہ سیوکس کی مقدس سرزمین پر بنایا گیا ہے۔

اس میں نظر آنے والے دو امریکی صدر جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن غلام رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سابق امریکی صدر کے مجسمے کو نیویارک میوزیم سے ہٹانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی وہ ’غلطیاں‘ جو انھیں آئندہ انتخابات میں شکست سے دوچار کر سکتی ہیں

صدر کی جانب سے خطاب کے مقام کے انتخاب پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں منتخب کیا گيا ہے جب کنفیڈریٹ جرنیلوں اور غلاموں کے مالکان کے مجسموں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور بہت سارے معاملات میں انھیں منہدم کیا جا رہا ہے۔

مسٹر ٹرمپ کی تقریر کے بعد یوم آزادی سے قبل کی تقریب میں موسیقی کے ساتھ آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا جسے تقریباً ساڑھے سات ہزار ٹکٹ خریدنے والوں نے دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

جنگل میں آگ لگنے کے خدشات کے درمیان ماؤنٹ رشمور پر آتش بازی کی گئی

ریپبلکنز کی جانب سے دوسرے دور کے لیے صدر کے امیدوار کے دورے نے کووڈ 19 کے ممکنہ پھیلاؤ، آتش بازی کی وجہ سے جنگل کی آگ اور مقامی امریکی گروپوں کی جانب سے احتجاج کا خطرہ پیدا کیا ہے۔

اس تقریب کے موقع پر صحت کے عہدیداروں کے انتباہ کے باوجود ماسک اور معاشرتی دوری لازمی نہیں تھی۔

جمعہ کو امریکہ میں کورونا وائرس سے ایک دن میں سب سے زیادہ متاثرین ریکارڈ کیے گئے اور امریکہ میں اس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 25 لاکھ ہو چکی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کیا کہا؟

صدر ٹرمپ نے نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کے دوران یادگاروں کے گرانے کی مذمت کی۔ یہ مظاہرے افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ان کے سیاسی ہتھیاروں میں سے ایک کینسل کلچر ہے۔‘ ان کا بظاہر اشارہ مظاہرین کے اقدامات کو ’مطلق العنانیت‘ کے مترادف قرار دینا تھا۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ جنھوں نے ’قومی ورثے کی علامتوں‘ کو نشانہ بنایا ہے انھیں ‘قانون کے انتہائی حد’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ مجسموں کو مسمار کرنے والوں کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے یادگاروں کے تحفظ سے متعلق اپنے ایک حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کا حوالہ دیا۔

صدر نے کہا: ’بائیں بازو کا ہجوم اور کینسل کلچر پر عمل پیرا افراد مطلق العنانیت والے طرز عمل میں شامل ہیں جو امریکی زندگی کے لیے بالکل اجنبی ہیں اور ہمیں اسے کسی طور قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘

اس تقریب میں لوگوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے جنوبی ڈکوٹا کی ریپبلکن گورنر کرسٹی نوئم نے صدر کے ہی انداز میں مظاہرین پر ‘تاریخ کے اسباق کو مٹا دینے کی کوشش’ کا الزام لگایا۔

انھوں نے کہا: ’یہ امریکہ کے بانی اصولوں کو بدنام کرنے کے لیے دانستہ طور پر کیا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے دوران جمعہ کا اجتماع صدر ٹرمپ کا تازہ ترین اجتماع تھا جس کے ذریعے وہ نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اپنے حامیوں میں جوش بھرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ماحولیاتی خدشات پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ایک دہائی کے دوران رشمور پہاڑی میں آتش بازی کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

یادگار ایک قومی جنگل سے گھرا ہوا ہے اور بعض لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ اس نمائش سے خشک موسم میں جنگل کی آگ بھڑک سکتی ہے لیکن مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس کا خطرہ کم ہے۔

مقامی امریکیوں نے اس تقریب کے بارے میں کیا کہا؟

مقامی امریکی گروپس نے مسٹر ٹرمپ کے اس دورے کو صحت کے لیے خطرہ پیدا کرنے اور اس حصے میں امریکی آزادی منانے پر تنقید کی ہے جو ان کے لیے مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

بہت سے مقامی امریکی یوم آزادی مناتے نہیں ہیں کیونکہ وہ اسے اپنے قبائلی آبائی علاقوں کی نوآبادیاتی کالونی بنائے جانے اور اپنی ثقافتی آزادیوں کے خاتمے سے منسلک کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

’صدر ہمارے ایک انتہائی مقدس مقام پر صرف ایک تصویر کے موقعے کے لیے ہمارے قبائلیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘

ماؤنٹ رشمور پر یہ یادگار سنہ 1927 سے 1941 کے درمیان بنائی گئی تھیں لیکن ساؤتھ ڈکوٹا کی جن سیاہ پہاڑیوں پر یہ یادگار ہے اسے امریکی حکومت نے مقامی لیکوٹا سیوکس قبائل سے سنہ 1800 کی دہائی میں حاصل کیا تھی۔

شیئن ریور سیوکس ٹرائب کے چیئرمین ہیرولڈ فریزیئر نے کہا: ’صدر ہمارے ایک انتہائی مقدس مقام پر صرف ایک تصویر کے موقعے کے لیے ہمارے قبائلیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

اس واقعہ سے پہلے مقامی امریکی مظاہرین کے ایک گروپ نے یادگار تک جانے والی ایک مرکزی سڑک کو سفید وینوں سے بلاک کر دیا جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ کشیدہ صورت حال سامنے آئی۔

مقامی خبروں کے مطابق پولیس افسران اور نیشنل گارڈ کے جوانوں نے بالآخر سڑک سے رکاوٹ دور کی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے انھوں نے آنسو گیس اور کالی مرچ کے سپرے کا استعمال کیا۔

مقامی اخبار آرگس لیڈر کے مطابق پولیس والے راستہ روکنے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے وینوں کو وہاں سے اٹھا کر لے گئے اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔


World News by Editor

Show More

Related Articles

Back to top button
Close
Close