دنیا

ہانگ کانگ کے جموریت نواز کارکنوں کی تلاش

،تصویر کا کیپشن

ہانگ کانگ کی پولیس سائمن چینگ اور نیتھن لا کو نئےسکیورٹی قانون کے تحت گرفتاری کی کوشش کر رہی ہے

ہانگ کانگ کی پولیس چھ ایسے جموریت نواز کارکنوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک میں مقیم ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ہانگ کانگ کی پولیس کو ہانگ کانگ میں برطانوی قونصلیٹ کے سابق ملازم سائمن چینگ، امریکی شہری سیموئیل چو، اور جانے پہچانے کارکن نیتھن لا کو گرفتاری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چین کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق پولیس کو ’شرپسند‘ عناصر کی گرفتاری مطلوب ہے جن پر شبہ ہے کہ انھوں نے ہانگ کانگ میں حال ہی میں نافذ ہونے والے سیکیورٹی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

ہانگ کانگ کی پولیس نے ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔

گذشتہ روز اعلان کیا گیا تھا کہ ہانگ کانگ کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ایک برس کے لیے ملتوی کیے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کا جواز کووڈ نائنٹین کی وبا کو بنایا گیا ہے۔

اپوزیشن نے کہا ہے کہ انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے کورونا کی وبا کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکی وائٹ ہاؤس نے ہانگ کانگ کی حکومت کے فیصلےکو غیر جمہوری قرار دیا ہے۔

جمہوریت کے حامی سیاستدانوں کو امید تھی کہ وہ چین کی طرف سے ہانگ کانگ کے لیے سکیورٹی قانون کی منظوری کی وجہ سے پائے جانے والے غم و غصہ کو اپنے حق میں استعمال کریں گے ۔

برطانیہ کی سابقہ کالونی ہانگ کانگ جسے 1997 میں چین کو واپس کیا گیا تھا ، میں کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ معاہدے کے مطابق ملک دو نظام کے تحت حاصل آزادیوں کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

ہانگ کانگ کے بارے میں سکیورٹی قانون کی منظوری کے بعد برطانیہ اور آسٹریلیا ہانگ کانگ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے ختم کر چکے ہیں۔

جرمنی نے بھی جمعہ کے روز ہانگ کانگ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ کی حکومت جن چھ افراد کو گرفتار کرنا چاہتی ہے ان میں سے ایک نے جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔.

کون کون مطلوب ہیں؟

چین کے سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی کے مطابق چھ افراد غیر ملکی طاقتوں سے ساز باز کرنے اور ہانگ کانگ کی علیحدگی کے شبہے میں مطلوب ہیں۔

نئے سکیورٹی قانون کے تحت غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کرنے اور ملک سے علیحدگی کے جرائم ثابت ہونے پر ملزم کو تا حیات قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

چین کے سرکاری ٹی وی نیٹ ورک سی سی ٹی وی اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان چھ مطلوب افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

سائمن چینگ

سائمن چینک ہانگ کانگ میں برطانوی قونصلیٹ کے سابق ملازم ہیں۔ انھیں حال ہی میں برطانیہ میں سیاسی پناہ مل چکی ہے۔

انھیں گذشتہ برس اگست میں چین کے ایک کاروباری دورے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ میں سیاسی بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سائمن چینگ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا کہ دوران حراست ان پر تشدد کر کے ان سے اعتراف جرم کی جعلی دستاویز پر دستخط کروائے گئے تھے۔

نیتھن لا

ستائیس سالہ نیتھن لا ہانگ کانگ کے ایک جانے پہچانے سیاسی کارکن ہیں جو 2014 میں طلبا کے احتجاج کے دوران منظر عام پر آئے۔ انھوں نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے خبروں پر اپنے ردعمل پر کہا :” مجھے نہیں معلوم کہ میرا جرم کیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جاننا زیادہ اہم بھی نہیں ہے۔ شاید میں ہانگ کانگ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں۔‘‘

نیتھن لا نے کہا کہ وہ جلا وطنی میں رہنے کے خیال سے خوفزدہ ہیں اور وہ ہانگ کانگ میں اپنے خاندان کے ساتھ تمام روابط کو ختم کر رہے ہیں۔

سیموئیل چو ایک امریکی پادری چوو یو منگ کے بیٹے ہیں ۔وہ 2014 کے چھتری احتجاج کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔

وہ امریکہ میں قائم ہانگ کانگ ڈیموکریسی کونسل کو چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے آخری بار 2019 میں ہانگ کانگ کا دورہ کیا تھا۔

انھوں نےاپنے ردعمل میں کہا کہ ”میں شاید پہلا غیر چینی شہری ہوں گا جس کےخلاف سکیورٹی قانون کےتحت مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن میں یقیناً آخری نہیں ہوں گا۔‘‘

رے وانگ 2017 میں ہانگ کانگ سے فرار ہو کر جرمنی آ گئے تھے۔ وہ اب برطانیہ میں ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مطلوب افراد کی فہرست بنانے کا مقصد ایسے لوگوں کو ڈرانا ہے جو ہانگ کانگ کے حقوق کے لیےعالمی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لو ہانگ

اٹھارہ سالہ لو ہانگ برطانیہ میں مقیم ہیں۔وہ پہلی بار 2017 میں منظر عام پر آئے جب انھوں نے ہانگ کانگ کی لیڈر کیری لام کے پاس جمہوریت نواز بینر لہرایا تھا۔

وہ ایک صحافی کو کہتے سنے گئے ہیں:” آؤ مجھے برطانیہ سے گرفتار کر لو۔‘

وائن چن

وائن چن بھی جموریت نواز کارکن ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ وہ اس وقت کہاں مقیم ہیں۔

انھوں نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ میری صورتحال سے زیادہ خطرناک ہے۔ میں اپنے تحفظ کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ سکتا۔


World News by Editor

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close