دنیا

ہانگ کانگ کے لیے چین کا نیا قانون منظور ہونے کے منٹوں بعد ہی جمہوریت پسند آوازیں خاموش ہو گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

جوشا وانگ

منگل کی صبح بیجنگ سے ایسی خبریں آنی شروع ہوئیں جن کے مطابق چین نے ہانگ کانگ کے لیے سکیورٹی کا ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔

نئے قانون کے تحت کسی بھی قسم کی علیحدگی، بغاوت، دہشت گردی یا غیر ملکی افواج کے ساتھ ملی بھگت کے مرتکب شخص کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اور منٹوں میں ہی اس قانون کا اثر واضح ہوگیا۔ ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامیوں نے نئے قانون اور اس میں تجویز کردہ سزاؤں کے ڈر سے اپنے اپنے عہدوں اور تنظیموں سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کردی۔

یہ بھی پڑھیے

چین کا ہانگ کانگ کے لیے قومی سلامتی کا متنازع قانون کتنا پریشان کن ہے؟

ہانگ کانگ متنازع قانون: امریکہ نے چینی اہلکاروں پر ویزا پابندیاں عائد کر دیں

ہانگ کانگ کے شعلے

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ان میں سے چند افراد، مہمات چلانے والوں اور حکومتوں کا اس نئے قانون کے بارے میں کیا ردِ عمل ہے۔

جوشا وانگ

سیکرٹری جنرل اور جمہوریت نواز گروپ ڈیموسوٹو کے بانی رکناور 2014 امبریلا تحریک کی اہم شخصیت

وانگ نے ڈیموسوٹو چھوڑنے کے اعلان کے بعد کہا ’یہ (قانون) ہانگ کانگ کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے جس کا دنیا کو پہلے ہی پتہ تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اب سے ہانگ کانگ بھی تائیوان کے وائٹ ٹیرر کی طرح من مانی مقدمات، خفیہ جیلوں اور مقدمات، جبری اعترافات، میڈیا پر قدغنوں اور سیاسی سنسر شپ کے ساتھ، دہشت گردی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’بڑے پیمانے پر اختیارات اور غلط تعریف شدہ قانون کی مدد سے یہ شہر ایک خفیہ پولیس ریاست میں تبدیل ہوجائے گا۔ اب ہانگ کانگ کے مظاہرین کو مقدمات اور عمر قید کی سزاؤں کے الزام میں چین کی عدالتوں کے حوالے کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

ناتھن لا

ناتھن لا

ڈیموسوٹو کے بانی چیئرمین اور سابق طلبارہنما

فیس بک پوسٹ میں ناتھن لا کا کہنا تھا کہ یہ قانون ’خونی ثقافتی انقلاب‘ کے آغاز کی علامت ہے۔

ڈیمو سسٹو چھوڑنے کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ وہ ’ذاتی صلاحیت میں‘ جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انھوں نے ٹویٹر پر مزید کہا ’میرے دوست حوصلہ رکھیں، ہانگ کانگ کے لوگ اتنی آسانی سے ہمت نہیں ہاریں گے۔‘

لا، وانگ اور دیگر افراد کے ڈیمو سسٹو چھوڑنے کے گھنٹوں بعد اس گروپ نے اعلان کیا کہ یہ گروپ مکمل طور پر ختم ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’ہم پھر ملیں گے۔‘

ہانگ کانگ نیشنل فرنٹ

آزادی کا حامی گروپ

قانون کی منظوری کے چند منٹ بعد اس گروپ نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ ہانگ کانگ میں اپنے آپریشن ختم کر رہے ہیں لیکن بیرون ملک اپنا کام جاری رکھیں گے۔ مبینہ طور پر اس گروپ کی تائیوان اور برطانیہ میں بھی شاخیں ہیں۔

ہانگ کانگ میں گروپ کے ترجمان، باگیو لیونگ (جو مختصر طور پر 2016 میں پارلیمنٹ کے ممبر تھے) وہ بھی گروپ چھوڑ رہے ہیں۔

گروپ کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں آپریشن ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لڑائی ختم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’آج سب کچھ ختم نہیں ہو گیا۔‘

Image caption

گذشتہ برس ہزاروں افراد نے اس قانون کے خلاف اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا

ایمنیسٹی انٹرنیشنل

چین میں ایمنسٹی کی ٹیم کے سربراہ جوشوا روزنزویگ کا کہنا ہے کہ ’اب سے چین کو اختیارات حاصل ہو گئے ہیں کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص کو پکڑ کر ان پر اپنے قوانین کا نفاذ کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’حقیقت یہ ہے کہ ہانگ کانگ کے لوگوں کو بتائے اور دکھائے بغیر اس قانون کو منظور کیا گیا ہے، اسی سے آپ چینی حکام کے ارادوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘

’آج سے ان کا مقصد ہانگ کانگ پر خوف کے ذریعے حکومت کرنا ہے۔‘

تائیوان کی حکومت

تائیوان میں کابینہ کے ترجمان ایوین ٹنگ کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام ہانگ کانگ کے معاشرے کی آزادی، انسانی حقوق اور استحکام کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی تائیوان کی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہانگ کانگ کے دورے کے دوران بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

ایوین ٹنگ کا کہنا تھا کہ ’تائیوان کی حکومت اس قانون کی شدید مذمت کرتی ہے اور جمہوریت اور آزادی کے لیے ہانگ کانگ کے عوام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔‘

کیری لام

قانون کی منظوری سے پہلے ہانگ کانگ کی حکومتی رہنما کی رائے

کیری لام نے مئی میں کہا تھا ’ہمیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

’پچھلے 23 سالوں کے دوران جب جب لوگ ہانگ کانگ میں آزادیِ اظہار اور احتجاج کی آزادی کے بارے میں پریشان ہوئے، ہر اس موقع پر ہانگ کانگ نے ثابت کیا کہ ہم ان اقدار کا پاس رکھتے ہیں اور ان کا تحفظ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، شہریوں کے مختلف حقوق اور آزادی سے مستفید ہونے کی بنیادی اقدار اب بھی موجود رہیں گی۔‘


World News by Editor

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close